دلِ تباہ یہ ہر پل دہائی دیتا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiدلِ تباہ یہ ہر پل دہائی دیتا ہے
وہ ساتھ غیر کے کیونکر دکھائی دیتا ہے
میں ایک عمر سے ہوں اس کے بام پر اٹکا
نہ مجھ فقیر کو شرفِ گدائ دیتا ہے
جواب دُور سے دیتا ہے وہ سلاموں کا
کہاں وہ ہاتھ کسی کے کلائ دیتا ہے
نہ اپنی زلف کے ساۓ میں قید کرتا ہے
نہ اپنے ہجر سے مجھ کو رہائی دیتا ہے
ہے مجھ سے پیار کا دعویٰ تو بےبہا اس کا
نہ مجھ کو جسم تلک پر رسائی دیتا ہے
خدا کو ڈھونڈنا پڑتا ہے چھوڑ کر دنیا
وہ اپنے آپ کہاں آشنائ دیتا ہے
بھلایا اس کیلۓ جس نے بھی خدائی کو
وہ ایک دن اسے ساری خدائی دیتا ہے
کوئی تو آۓ یہ ظلمت یہ خوں گری روکے
ہر اک زباں سے یہ کلمہ سنائی دیتا ہے
ہر ایک شخص سے باقرؔ ہے دوستی اس کی
بس ایک مجھ کو نہ وہ ہم نوائ دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






