دل تیری یادوں کا جہاں ہے جاناں
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiدل تیری یادوں کا جہاں ہے جاناں
پانی پانی آنکھوں کی زباں ہے جاناں
ہر اجالا تیری قسمیں کھا کے بولا
چودھویں شب تو تیرا ایک نشاں ہے جاناں
آجا آجا درد دل کے مسیحا آ جا
نکل نہ جائے آخر یہ جاں ہے آجا
تیری آنکھوں میں ڈوب کر مر جائیں ہم
خوبصورت اک یہی تو ارماں ہے جاناں
میں بہاروں کا پجاری ہوں آوارہ طائر
میرا ٹھکانہ تو کھلا آسماں ہے جاناں
اپنی زلف پریشاں کا سبب تو دیکھو
ساری دنیا خامشی کا نشاں ہے جاناں
مجھ کو دیتا ہی نہیں اور سہارا کوئی
دشمن زمانے میں اب تو کہاں ہے جاناں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






