دل جلے

Poet: زنیرہ عارف By: Zunairah Arif, Peshawar

جسے اپنا سمجھتے تھے ،وہی وار کر بیٹھے
نادان تھے ہم بھی کہ انہی سے پیار کر بیٹھے

نہ چیڑھ ذکر فریب کا ہم دل جلو کو نہ چیڑھنا
کہ یہی قصے جوانی میں ہمیں بیمار کر بیٹھے

کہ جو نکلے تھے سر بازار ہمیں بے آبرو کرنے
اسی کم بخت سنگ دل پر یہ جان قربان کر بیٹھے

جو ملمع ساز تھے مشہور اس بھرے زمانے میں
کیوں اسی دروغ گو پہ ہم اعتبار کر بیٹھے

یہ دنیا خوش نہیں ہم سے یہ لوگ اپنے نہیں ہوتے
بس یہی سمجھنے تک خودہی کو خوار کر بیٹھے

Rate it:
Views: 1
20 Jun, 2026
More Sad Poetry