دل درد سے بھرا ہے کوئی نہیں سہارہ
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratدل درد سے بھرا ہے کوئی نہیں سہارہ
پھرتا ہے کسی کے غم میں کوئی آوارہ
نڈھال ہے یا تھکا ہوا وہ عاشق آوارہ
خیال رکھنا تم آج کی رات
نہ سونا تم آج کی رات
یژ پردہ سا لگتا ہے آنکھیں ہیں نم اس کی
حال بگھڑا ہے پاؤں چھلنی، پلکیں بھاری اس کی
کسی بھی وقت نہ برس جائیں
خیال رکھنا تم آج کی رات
نہ سونا تم آج کی رات
ہاتھ خالی ہیں، دل میں سمندر بہتا ہے
منہ سے چپ مگر کچھ نہیں کہتا ہے
نجانے کسی کو ڈھنڈنے نکلا ہے
خیال رکھنا تم آج کی رات
نہ سونا تم آج کی رات
تھام کر ہاتھ اس کا دے اس کو دلاسہ
تم سے کیا چھپانہ ساجن ہے وہ تمھارا
جس کا شور ہے برپا تم ہو اس کا اثاثہ
خیال رکھنا تم آج کی رات
نہ سونا تم آج کی رات
پلکو ں میں سمانا، دعاؤ ں میں اٹھانا
پھول راہوں میں بچھادینا
نہ دل دکھانا، پاس وفا رکھ لینا
خیال رکھنا تم آج کی رات
نہ سونا تم آج کی رات
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






