دل سے دل جائے یہ تمنا کریں گے
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbaiدل سے دل جائے یہ تمنا کریں گے
کوئی آساں نہیں ہے دل سے دل ہی ملیں گے
ٹوٹ جائے یہ دل نہ تو شکوہ کریں گے
کوئی نازاں اسی سے ہم بھی شاداں رہیں گے
کیوں ستائے کوئی بھی کہ یہ دل سنگ نہیں ہے
ورنہ آنکھوں سے یوں ہی اَشْکِ خُونی بہیں گے
کوئی حسرت رہے گی تو یہی بس رہے گی
تم ہماری سنو گے ہم تمہاری سنیں گے
تم ہمارے رہو گے ہم تمہارے رہیں گے
کچھ کہیں گے کبھی تو بس تمہاری کہیں گے
جو وفا بھی کریں گے تو تمہیں سے کریں گے
بے وفائی کا کوئی نہ تو دم بھی بھریں گے
کوئی الفت رہے گی تو تمہیں سے رہے گی
نہ تصور کسی کا بس اسی سے بچیں گے
یہ ہماری تو یوں ہی بےقراری رہے گی
بس ہمیشہ اسی میں ہم تو فرحاں دکھیں گے
کوئی شکوہ نہ گا نہ شکایت رہے گی
کہ کبھی ضبط سے ہم نہ تو پیچھے ہٹیں گے
یہ تو اپنا کبھی بھی عَہْد پختہ رہے گا
نہ کمی ہوگی کوئی بس اسی پر جمیں گے
یہ سدا آرزو بس اثر کی رہے گی
جان ہو تم پہ فدا بس تمہیں پہ مریں گے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






