دل میں خواہشوں کے سامان تهے کیسے کیسے
Poet: AF(LUCKY) By: AF (Lucky), K.S.Aدل میں خواہشوں کے سامان تهے کیسے کیسے
جو ہو گئے قربان وہ ارمان تهے کیسے کیسے
وہ بهول گیا توڑی ہی دور جا کر مجهے
میری آنکھوں میں انتظار تهے کیسے کیسے
بارش نے بگهو دیا اس کی یادوں سے مجهے
کہیں جو خشک مجه میں خمار تهے کیسے کیسے
وہ لوگ یوں تو باظاہر بہت اچهے تهے مگر
انہوں نے کیے انکار تهے کیسے کیسے
اب نہیں لوٹ کر جانا اس کے در پر کبھی
جس نے وفا کے توڑے ہتھیار تهے کیسے کیسے
دل میں زندہ ہے اب تک وہ آخری تمناء
جس کے لیے حاضر پیار تهے کیسے کیسے
وہ بدل گیا بس موسم کی طرح ورنہ
جان دینے کو ہم تیار تهے کیسے کیسے
اک شخص کی جدائی میں مر گیا جو شخص
جس میں چهپے فنکار تهے کیسے کیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






