دل میں کوئی نہیں ارمان پھربھی جی رہےہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamدل میں کوئی نہیں ارمان پھر بھی جی رہے ہیں
دنیا میں جینا نہیں آسان پھر بھی جی رہے ہیں
ہم یہاں خالی ہاتھ آئے تھے خالی ہاتھ جانا ہے
اپناسب کر چکےہیں دان پھربھی جی رہےہیں
سونی سونی رہتی ہیں میرےدل کی گلیاں
کوئی آتا نہیں مہمان پھر بھی جی رہے ہیں
زیست کا ہر راستہ ہےصورت دشت ویران
تنہا جینا نہیں آسان پھربھی جی رہےہیں
وہ دل ہمارا توڑ گےتنہا ہمیں چھوڑ گے
دل رہتا ہے پریشان پھربھی جی رہےہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






