دل پر نقش تصویر
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanنرم شاخ کے جیسی ہے کھلتے گلاب کے جیسی ہے
صورت اس قدر شاداب ہے حُسن و جمال کے جیسی ہے
پلکیں جھکانے سے جھک جائے حہاں اُٹھانے سے مہک جائے سماں
تیری آمد سے گلستان چہک رہا ہے تو بہار کے موسم کے حیسی ہے
میری خوابگاہ میں آ کر میری نیند چُرا لے جاتی ہے
چمک دکھا کر میرے ہوش اُڑا لے جاتی ہے
نزدیک آ کر اس قدر کیوں دور چلی جاتی ہے
میرے دل میں ہلچل مچاتی ہے میری بے قراری کے جیسی ہے
سوچتا ہوں کب اپنے چہرے سے نقاب اُٹھائے گی
صورت دکھائے گی جب پھر مجھے چین کی نیند آئے گی
مجھے بے چین کر کے کیسی پُر مسرت ہے ساون کی گھٹا
جھوم رہی ہے مسرور ہے مہکی آوارہ فضاء کے جیسی ہے
جلوے دکھا کر خوابوں میں آ کر اس طرح کیوں ستاتی ہے
گھونگھٹ اگر اُٹھانا نہیں تو اپنی جھلک پھر کیوں دکھاتی ہے
مار ڈالیں گیں تیری یہ ادائیں میرے محبوب سمجھا کر
بھول سکتا ہوں کیسے تمہیں میرے دل پر نقش تصویر کے جیسی ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






