پیار جسے کہتے ہیں

Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Oman

دلکش حسین احساس ہے پیار جسے کہتے ہیں
جینے کے لئیے خوشگوار گزرگاہ ہے پیار جسے کہتے ہیں
میں کیسے اس احساس کو الفاظ میں بیان کروں
کسی کے بس میں نہیں جو پیاس ہے پیار جسے کہتے ہیں

بدلا بدلا لتنے لگا سماں مہکنے لگا چمن بھی
پہلے کبھی جو ہوا نہیں خمار ایسا چھانے لگا مجھ پر
عجب سی بے قراری ہے دل پھر بھی شاد ہے
کیسی انوکھی کیفیت لئیے ہے پیار جسے کہتے ہیں

دن ہیں وہی راتیں بھی ہیں پہلے جیسی
رات ہو گئی ہے مخمور صبح بھی ہے مسرور سی
آنکھوں میں سنہری یاد ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ہے
دل کا موسم کس قدر تبدیل کر دیتا ہے پیار جسے کہتے ہیں

چاہت کا احساس لئیے اب مہک سا جاتا ہے میں
شام و سحر انتطار سہوں پھر بھی کھل سا جاتا ہے میں
پروانوں سا مچلوں آوارہ پرندوں سا جھوموں
فاصلے مٹا کر قربتیں دلا جاتا ہے پیار جسے کہتے ہیں
 

Rate it:
Views: 411
16 Oct, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL