دل کی الجھن پسِ دیوار کہیں رہ جائے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiدل کی الجھن پسِ دیوار کہیں رہ جائے
یوں نہ ہو یار کہیں پیار کہیں رہ جائے
بس یہی سوچ کہ نیندوں کو بھلا ڈالا ہے
یاد بھی تیری نہ مسمار کہیں رہ جائے
موت سے پہلے تُو وعدوں کو وفا کر لے صنم
میرے بن تُو نہ شرمسار کہیں رہ جائے
کاش اندر کا بھی انسان کبھی جاگ اٹھے
روح ہو پاک گنہگار کہیں رہ جائے
میں اسے ساتھ اٹھائے نہیں پھر سکتا ہوں
دل جو ہے تیرا طلبگار کہیں رہ جائے
آج پھر مجھ کو میسر نہیں مے کی بوتل
آج پھر تیرا نہ دیدار کہیں رہ جائے
مرگ دو پل کی اجازت دے میں اس سے مل لوں
میرے محسن کا نہ دربار کہیں رہ جائے
مجھ کو اک پل نہیں دیدار جو دیتا باقرؔ
وہ زمانے کا وفادار کہیں رہ جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






