دل کے گلشن کی آبیاری میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلادل کے گلشن کی آبیاری میں
درد اگتا رہا کیاری میں
جب بھی جلتا ہے یاد کا دیپک
خون جلتا ہے بیقراری میں
میں نے دیکھا ہے عشق کا جزبہ
تیرے دربار کے بھکاری میں
آج اتنی پلا دی آنکھوں سے
آنکھ لگ جائے گی خماری میں
اور ملتی نہیں کسی شے سے
جتنی عزت ہے غمگساری میں
بجھ رہا ہے یہ دوستی کا دیا
رہ گیا کچھ نہ راز داری میں
میں نہ پہنچوں گی وقت پر وشمہ
آج مشکل ہے پھر سواری میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






