دوام کی ضرورت ھے
Poet: اسد جھنڈیر۔۔۔ By: اسد, MPK دل کسی سورت سدھرنے کا نام نہیں لیتا
جہاں دوام کی ضرورت ھے واں دوام نہیں لیتا
اپنی بس سے باہر کا ہر کام کرتا ھے
حد سے تجاوز کرتا ھے اختتام نہیں لیتا
ایک اکیلا تن تنہا زمانے سے لڑتا ھے
اور پھر کہتا ھے کہ کوئی انتقام نہیں لیتا
دور حاجر میں فاقہ مستی رنگ لاوے کہاں؟
کہ درد کے مارے مر رہا ھے مگر بام نہیں لیتا
زھر اذا اسد حق برابر شراب طہورا سہی
شب و روز اور کوئی میں ہنوز جام نہیں لیتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






