دور و نزدیک ہو نہیں سکتے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا دور و نزدیک ہو نہیں سکتے
تیری یادوں کو کھو نہیں سکتے
ہنستے رہتے ہیں کس قدر تنہا
تیری فرقت میں رو نہیں سکتے
دشتِ حیرت میں ہر گھڑی جاناں
بیچ حسرت کے بو نہیں سکتے
تیری یادوں میں روتے رہتے ہیں
رات بھر ہم تو سو نہیں سکتے
غم کی طغیانیوں میں چاہت کا
ہم سفینہ ڈبو نہیں سکتے
دکھ تو یہ ہے سپیدہ کپڑوں سے
داغ تہمت کے دھو نہیں سکتے
وصل الفت کے اب یہاں وشمہ
ہم بھی موتی پرو نہیں سکتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






