جاناں!تمہارے عشق پہ تنقید کیا کروں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا جاناں!تمہارے عشق پہ تنقید کیا کروں
آنکھوں سے تیرے پیار کی تردید کیا کروں
شوقِ وفا ہے پیار کے رنگوں سے کھیلنا
تجھ سے تعلقات کی تجدید کیا کروں
وہ اپنے راستوں پہ ہی چلتا چلا گیا
میں اپنے راستوں پہ ہوں تقلید کیا کروں
پچھلے برس کا چاند بھی کتنا اداس تھا
اس سال بھی میں تیرے بنا عید کیا کروں
وشمہ بتا مین ترکِ تعلق کے باوجود
شیشے میں اپنے درد کی بھی دید کیا کروں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






