دوستوں کے نام
Poet: Faisal Sheikh By: Faisal Sheikh , Karachiگزرے ہوئے وقتوں کی ، جب یاد ستاتی ہے
مانوس سے کچھ چہرے آنکھوں میں بساتی ہے
سب یار پرانے وہ ماضی کے فسانے وہ
پھر میرے خیالوں میں وہی بزم سجاتی ہے
وہ شوخی شرارت کے بھرپور حسیں منظر
بیتے ہوہے لمحوں کے ہر پل کو دکھاتی ہے
اس گردشِ دوراں میں سب یار اپنے بچھڑے
دوری ہی سہی ان سے ، پر یاد تو آتی ہے
شکوہ نہیں کسی سے، ہے وقت کی روش یہ
بہرحال زندگی تو ایسے بھی گزر جاتی ہے
ہے دوستی کا رشتہ بھی اہم زندگی میں
بے رخی زمانے کی احساس دلاتی ہے
کیسے کہیں کسی سے ، سب ہستیِ غافل ہیں
سب کو اب اپنی اپنی ہی فکر ستاتی ہے
اس بات پہ سکوں کہ ،دستور زندگی یہ
گزری ہوئی گھڑی پھر واپس نہیں آتی ہے
آسودہ زندگی میں کس چیز کی کمی ہے
بس یاد ہی ماضی کی اس دل کو جلاتی ہے
حیران پریشاں میں ، کس دشت و بیاباں میں
لاکھوں کے جھمیلے میں تنہائی ستاتی ہے
اور آج ساری باتیں ہے سراب کی سی مانند
جتنا بھی پاس آؤ یہ دور ہی جاتی ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






