دوستوں کے نام
Poet: Faisal Sheikh By: Faisal Sheikh , Karachiگزرے ہوئے وقتوں کی ، جب یاد ستاتی ہے
مانوس سے کچھ چہرے آنکھوں میں بساتی ہے
سب یار پرانے وہ ماضی کے فسانے وہ
پھر میرے خیالوں میں وہی بزم سجاتی ہے
وہ شوخی شرارت کے بھرپور حسیں منظر
بیتے ہوہے لمحوں کے ہر پل کو دکھاتی ہے
اس گردشِ دوراں میں سب یار اپنے بچھڑے
دوری ہی سہی ان سے ، پر یاد تو آتی ہے
شکوہ نہیں کسی سے، ہے وقت کی روش یہ
بہرحال زندگی تو ایسے بھی گزر جاتی ہے
ہے دوستی کا رشتہ بھی اہم زندگی میں
بے رخی زمانے کی احساس دلاتی ہے
کیسے کہیں کسی سے ، سب ہستیِ غافل ہیں
سب کو اب اپنی اپنی ہی فکر ستاتی ہے
اس بات پہ سکوں کہ ،دستور زندگی یہ
گزری ہوئی گھڑی پھر واپس نہیں آتی ہے
آسودہ زندگی میں کس چیز کی کمی ہے
بس یاد ہی ماضی کی اس دل کو جلاتی ہے
حیران پریشاں میں ، کس دشت و بیاباں میں
لاکھوں کے جھمیلے میں تنہائی ستاتی ہے
اور آج ساری باتیں ہے سراب کی سی مانند
جتنا بھی پاس آؤ یہ دور ہی جاتی ہے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






