دھاگے
Poet: kanwal naveed By: kanwalnaveed, Karachiہم بھی تو بس دھاگے ہیں
ہم بھی تو بس دھاگے ہیں
کبھی ہیں الجھے الجھے سے
کبھی ہیں سلجھے سلجھے سے
کبھی ہلکے ہیں کبھی گہرے ہیں
کبھی بند ڈبیا میں ٹھہرے ہیں
کچھ دلہن کو سجاتے ہیں
کچھ کفن میں سماتے ہیں
کچھ کھلے ہوئے کچھ کھچئے ہوئے
کچھ قدموں میں بچھئے ہوئے
کبھی تاج کے موتی میں پیوست سے
کبھی اونچے ہیں کچھ ہیں پست سے
کچھ اک ضرب سے ٹوٹ جاتے ہیں
کچھ ناکوں چنے چبواتے ہیں
یہ دھاگوں کی کہانی ہے
اک دھاگے کی زبانی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






