دھوپ میں اوڑھے جانے والے نقاب کی طرح
Poet: Roshani By: Roshani, U..A.Eتیز ہوا میں اوڑتے اوراق کی طرح
میری محبت ادھوری کتاب کی طرح
کیسے کرتے تم سے شکوہ یا شکایت
تم سے بچھڑے نامکمل حساب کی طرح
میں اور میری ادھوری محبت
کٹ رہی ہے زندگی تلخ عذاب کی طرح
بناوٹی مسکراہٹ سے غم کو چھپائے ہوں
دھوپ میں اوڑھے جانے والے نقاب کی طرح
یوں بکھر گیا تیرا میرا رشتہ اے ہم دم
آنکھ کے کھلنے سے ٹوٹے خواب کی طرح
دل کے جہاں میں اک ہلچل سی ہے مچی
شہر میں آئے ہوئے سلاب کی طرح
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






