دھوپ چھاؤں کے کھیل کھیل میں
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaکیسے خوابوں کے بندھن بنا گئے ھو
یہ رشتہ دل کی چبھن بنا گئے ھو
اپنی سلجھی ھوئی شخصیت کو
میری زندگی کی الجھن بنا گئے ھو
تنہائیاں خواب حسرتیں
بند دیواروں میں انجمن بنا گئے ھو
کبھی مڑ کر تو دیکھتے ساتھی
ھمیں عادی شعر و سخن بنا گئے ھو
پتھروں کے شہر میں نازک
کرچیوں کا بدن بنا گئے ھو
دل کی دوا تو کیا کرتے
لرزتی کانپتی دھڑکن بنا گئے ھو
دھوپ چھاؤں کے کھیل کھیل میں
طوفانوں کو سایہ فگن بنا گئے ھو
حصول اشیاء گراں میں دوست
ھمیں بھی اپنا دھن بنا گئے ھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






