دھڑکتا دل کسی ساعت ٹھہر جاتا تو کیا ہوتا؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillنظر کا تیر وحشت میں اتر جاتا تو کیا ہوتا
دھڑکتا دل کسی ساعت ٹھہر جاتا تو کیا ہوتا
سسکتا راز جو تم نے چھپا رکھا ہے سینے میں
ذرا سوچو تو پلکوں پر بکھر جاتا تو کیا ہوتا
غضب ڈھاتی ہے جسکی سادگی اہل بہاراں پر
ستارے سوچتے ہیں وہ سنور جاتا تو کیا ہوتا
کسی کی یاد کے صدقے اجالے رقص کرتے ہیں
اندھیرا سوچ کو ویران کر جاتا تو کیا ہوتا
ابھی تک تشنگی مخمور کر دیتی ہے سانسوں کو
وہ ساغر دید کے جلووں سے بھر جاتا تو کیا ہوتا
لکیریں ڈھونڈتیں کیسے تمناؤں کی وادی کو
نصیبہ اپنے لکھے سے مکر جاتا تو کیا ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






