تمثیل خواب آ کے گلے سے لگا مجھے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillلمحوں کی عدالت نے سنائی سزا مجھے
کہہ کر فروغ درد کی پہلی ادا مجھے
رہتے ہیں جو اداس میری قید پہ ہر دم
روئیں گے ٹوٹ ٹوٹ کے کر کے رہا مجھے
راہ وفا میں ساتھ چلا تھا وہ ایک دوست
جو لوٹ گیا سونپ کے میری وفا مجھے
دل اب بھی انتظار کی اس اک گھڑی میں ہے
شاید فریب وقت کی آئے صدا مجھے
یوں ٹمٹما رہی میری آس کی دنیا
تاروں کے پاس لے گئی میری دعا مجھے
مٹی کے کھلونوں میں بھی وحشت کا راج ہے
تمثیل خواب آکے گلے سے لگا مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






