دھڑکنوں کا سینے میں کبسے بین جاری ہے،کتنی سوگواری ہے
Poet: زیــــن شـــــکیـــــــؔل By: زیــــن, karachiدھڑکنوں کا سینے میں کبسے بین جاری ہے،کتنی سوگواری ہے
غــم کی سسکیاں لے کر بے کلی پکاری ہے، کتنی سوگواری ہے
جب بھی وہ ملے مجھسے حال چال کے بدلے پوچھتا ہے بس اتنا
یــار یہ بتــــاؤ تـم ، کتنــی بےقـــراری ہے؟ کتنی سوگواری ہے؟
اک ملنگ نے مجھ سے یہ کہا کہ لوگوں میں آیا جایا کر پاگل!
ساتھ ساتھ رکھا کر، یہ جو دنیا داری ہے، کتنی سوگواری ہے!
کوئی کیسے سمجھے گا کسطرح گزرتے ہیں رات دن اذیت میں
زینـــتِ مقــــدر ہے، جتـــنی آہ و زاری ہے، کتنی سوگواری ہے!
شام ہے، اُداسی ہے، روح بھی تو پیاسی ہے، بات گو ذرا سی ہے
کسطرح کہوں کیسے میں نے شب گزاری ہے، کتنی سوگواری ہے
میں تو خود پریشاں ہوں جو بھی ہو گیا رخصت لوٹ کر نہیں آیا
اِک مــــرا اکیلا پن اور ہجــــر جـــاری ہے، کتنی سوگواری ہے!
میرے پاس آنے سے ہاتھ بھی ملانے سے ڈر رہے تھے سارے لوگ
روح کے بہت اندر، ہـم نے خود اتاری ہے، کتنی سوگواری ہے!
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






