دیر آنے میں بہت کر دی مگر آۓ تو ہو
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدیر آنے میں بہت کر دی مگر آۓ تو ہو
واسطے میرے نویدِ صبح تم لاۓ تو ہو
اعترافِ جرُم تم کرتے نہیں تو نہ سہی
ذِکر سُن کر میری بربادی کا گبھراۓ تو ہو
بہہ گئے ہو وقت کی رو میں اگرچہ دُور تک
چاہے جیسے بھی ہو لیکن میرے ماں جاۓ تو ہو
جا چکے ہو تم ہماری زندگی سے دُور گو
ایک مدُت سے دِل و جاں پر مگر چھاۓ تو ہو
نہ ملے مجھ کو کڑی دوپہر میں بادل کوئی
جو بچاۓ دھوُپ سے وہ تم مِرے ساۓ تو ہو
سیکھ لی تم نے کہاں سے یوں دھڑکنے کی ادا
نام سن کر اُن کا اے دل تھوڑا شرمائے تو ہو
پھول لا پائے نہیں تو صرف کانٹے ہی سہی
کم سے کم میرے لئے تحفہ کوئی لائے تو ہو
غم نہیں سب کچھ لٹا کے آنکھ اب جا کر کھلی
زندگی کیا چیز ہے تم یہ سمجھ پائے تو ہو
قربتوں کو اک نہ اک دن رنگ تو لانا ہی تھا
بعد مدت کے سہی پر دل کو تم بھائے تو ہو
ہم نہ کہتے تھے کہ تم اچھی طرح سے سوچ لو
فیصلہ کر کے غلط اب دل میں پچھتائے تو ہو
ہے غنیمت مجھ کو عذراؔ یہ بے ہنگم شور بھی
گہری خاموشی میں آخر کوئی ہوُ ہاۓ تو ہو
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔







