دیر آنے میں بہت کر دی مگر آۓ تو ہو
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدیر آنے میں بہت کر دی مگر آۓ تو ہو
واسطے میرے نویدِ صبح تم لاۓ تو ہو
اعترافِ جرُم تم کرتے نہیں تو نہ سہی
ذِکر سُن کر میری بربادی کا گبھراۓ تو ہو
بہہ گئے ہو وقت کی رو میں اگرچہ دُور تک
چاہے جیسے بھی ہو لیکن میرے ماں جاۓ تو ہو
جا چکے ہو تم ہماری زندگی سے دُور گو
ایک مدُت سے دِل و جاں پر مگر چھاۓ تو ہو
نہ ملے مجھ کو کڑی دوپہر میں بادل کوئی
جو بچاۓ دھوُپ سے وہ تم مِرے ساۓ تو ہو
سیکھ لی تم نے کہاں سے یوں دھڑکنے کی ادا
نام سن کر اُن کا اے دل تھوڑا شرمائے تو ہو
پھول لا پائے نہیں تو صرف کانٹے ہی سہی
کم سے کم میرے لئے تحفہ کوئی لائے تو ہو
غم نہیں سب کچھ لٹا کے آنکھ اب جا کر کھلی
زندگی کیا چیز ہے تم یہ سمجھ پائے تو ہو
قربتوں کو اک نہ اک دن رنگ تو لانا ہی تھا
بعد مدت کے سہی پر دل کو تم بھائے تو ہو
ہم نہ کہتے تھے کہ تم اچھی طرح سے سوچ لو
فیصلہ کر کے غلط اب دل میں پچھتائے تو ہو
ہے غنیمت مجھ کو عذراؔ یہ بے ہنگم شور بھی
گہری خاموشی میں آخر کوئی ہوُ ہاۓ تو ہو
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں







