دیوانگی ۔۔۔۔
Poet: طارق اقبال حاوی, لاہور By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreچالِ غضب نے بھیجا، ہم کو دیوانگی میں
خود اپنی ہوش سے، اپنی بیگانگی میں
جیون میں آنے کی کچھ خبر بھی دیجئے
کتاب دل پہ نام درج میرا کر بھی دیجئے
آنکھوں کے تیر آپ، دیکھیں تو جائیں چل
پروانے تو نہیں ہم، یکدم جو جائیں جل
تیر آپ چلائیں ہم پہ، روز بے تکلف
سہنے کو مگر روز اک جگر بھی دیجئے
کتاب دل پہ نام درج میرا کر بھی دیجئے
آنکھوں کو ہو گئی ہے، تمھیں دیکھنے کی عادت
چاہوں میں تم کو اتنا، گویا عابد کرے عبادت
باہر کھڑے کھڑے اب، تھک گیا ہوں میں
رہنے کے لئے دل میں کوئی، گھر بھی دیجئے
کتاب دل پہ نام درج میرا کر بھی دیجئے
دن، ہفتہ، سال، نہ مہینہ چاہتا ہوں
محبت میں تیری عمر بھر، میں جینا چاہتا ہوں
انتظار ہم کریں گے، آزمائش سے زیادہ
خود کی بانہوں میں اب، بھر بھی دیجئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






