ذکر کیسا ہے اس سمندر کا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاذکر کیسا ہے اس سمندر کا
وہ تو قصہ ہے اس مقدر کا
کوئی منزل نہیں نہ شوق سفر
غم بھلا بھولتا ہے اب گھر کا
ا
ہم کہ ٹھہرے تری نظر میں برے
مل گیا یوں صلہ عمر بھر کا
غم سے آزاد ہو نہیں پاتے
شوق کس کو نہیں ہے دلبر کا
اپنی ہی ذات کے پجاری ہیں
جن کو دعوا ہےبرابر کا
تجھ سے دوری کا رنج ہے مجھ کو
غم تجھے بھی تو ہے ترے در کا
بات کچھ بھی نہیں مگر وشمہ
بن گیا ہے وہ بھی پتھر کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






