ذہن میں جو آتا ہے یکبار لکھ دوں
Poet: zaigham jaffery By: Zaigham jaffery, Daskaذہن میں جو آتا ہے یکبار لکھ دوں
چھپائے ہوئے دل کے اسرار لکھ دوں
نا جانے طلوع چاند کس وقت ہوگا
یہ پاگل ستارے ہیں بیدار لکھ دوں
یہ پھول اور کلیاں ہیں دلبر تمہارے
یہ چاند اور تارے پرستار لکھ دوں
کہ زلفِ خمیدہ سے آنچل گرا تو
جو پیدا ہوئے شب کے آثار لکھ دوں
اگر بس چلے میرے محبوب میرا
خداوں کو تیرا گرفتار لکھ دوں
جہاں والوں کے دل میں آنے سے پہلے
مَیں خود ہی خودی کو خطاکار لکھ دوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






