میرے ساجن تیرا جوبن یہ چاند ستارے کچھ بھی نہیں

Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daska

میرے ساجن تیرا جوبن یہ چاند ستارے کچھ بھی نہیں
سوچو بچپن میرا آنگن کیا آپ ہمارے کچھ بھی نہیں

جب بھی دھڑکا ہے دل میرا یادیں ماضی کی آتی ہیں
کھوئی ہوئی خوشیاں آنکھوں میں آنسو بن کر لہراتی ہیں
یہ دُور جدائی کرنے کو غیروں میں رہ رہ دیکھا ہے
غیروں کی لگن غیروں کی چبھن غیروں کے سہارے کچھ بھی نہیں
کیا آپ ہمارے کچھ بھی نہیں

مجبور ہوں دل کے ہاتھوں مَیں خاموش ہوں میں مغموم نہیں
ہوتی ہے چیز محبت کیا یہ درد کسے معلوم نہیں
جو درد ہے میرے سینے میں اس درد کے بدلے میں جاناں
میری یہ جلن میرا تڑپن نینوں کے دھارے کچھ بھی نہیں
کیا آپ ہمارے کچھ بھی نہیں

بے درد جہاں کی سازش سے ہمدرد ہمارا روٹھ گیا
جس کے بن جینا مشکل تھا وہ رشتہ ہم سے چھوٹ گیا
اپنوں کو نظر جب ڈھونڈتی ہے اپنے ہی اگر موجود نہ ہوں
کہتا ہے مَن دنیا کا دھن پھر محل منارے کچھ بھی نہیں
کیا آپ ہمارے کچھ بھی نہیں

Rate it:
Views: 585
04 Jul, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL