ربط
Poet: Hazik Ali By: Hazik Ali, Multanبات کب کی ختم ہوئی بس اک ربط وابستہ ہے
کہ میرے گھر کو جاتا اٗسکی گلی سے رستہ ہے
احباب بھی خفا ہیں اب تو اٗسے لے کر ہم سے
پر کیا کروں دلِ نادان کی حالت بڑی خستہ ہے
زرا پوچھا ہوتا تونے اے ظالم سہیلیوں سے اپنی
کیسا دکھتا ہے جسکے کاندھے پے تیرا بستہ ہے
یوں تو کئی بار کہہ چکا ہوں دوستوں سے اپنے
کہ اب نہیں بلاؤں گا کیا میرا ضمیر اتنا سستا ہے
مزاق اڑاتے ہیں کم بخت مل کے محفل میں میرا
کون سمجھائے عشق کا سانپ ایسے ہی ڈستا ہے
حازق کیا دن تھے وہ زرا یاد نہیں مجھے اب تو
پر آج بھی میرے اداس چہرے میں وہ ہنستا ہے
معمول تھوڑی تھا جو قصہ پٗرانا کردوں خود میں
جس قلب کو میں نے نہیں دیکھا وہ وہاں بستا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






