میں اقرار نہیں کرتا
Poet: بلبل سفیر)بختاور شہزادی) By: BAKHTAWAR SHEHZADI, GUJRATمیں اقرار نہیں کرتا
پیار کرنا نہیں آتا
میں اظہار نہیں کرتا
پھر قرار نہیں آتا
میں روٹھا نہیں کرتا
تجھے منانا نہیں آتا
میں مانگا نہیں کرتا
تجھے دینا نہیں آتا
میں چلایا نہیں کرتا
تجھے سننا نہیں آتا
مجھ سے درد سنایا نہیں جاتا
تجھے درد سمجھنا نہیں آتا
مجھے لفظوں میں پرونا نہیں آتا
تجھے پڑھنا نہیں آتا
تیرے سامنے رونا نہیں آتا
تجھے سمجھ میں نہیں آتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






