رندوں کو نہ روک ساقی مئخانہ بدنام ہوتا ہے
Poet: Santosh Kumar Gomani By: Santosh Kumar Gomani, Tharparkar @ Mithiرندوں کو نہ روک ساقی مئخانہ بدنام ہوتا ہے
پی کر چھلک جانے سے پیمانہ بدنام ہوتا ہے
ضبط غم نہ ہو تو مہ کدا مہ کشی کے ساتھ لیں
تنہائی کو دکھ بانٹنے سے بیگانہ بدنام ہوتا ہے
دنیا رنج نشیں ہوگئی مجرے پہ مہرباں
قصور کوٹھے والے کا نہیں یہ زمانہ بدنام ہوتا ہے
حال ہی کے تاسف تجھے کیا کم لگتے ہیں جو
یوں کہہ دیا ہر بار کہ وقت پرانا بدنام ہوتا ہے
اس کی آنکھوں میں چھلکیاں تھمی سی لگتی ہیں
کوئی شاید سوچ بیٹھا کہ پلانا بدنام ہوتا ہے
کون ہے جو محبت کی تجلی سے گزر گیا لیکن
دلکشی کے عالم میں یہ دیوانہ بدنام ہوتا ہے
او سنگتراش! تیری ہنرکاری کی عظمت دیکھ
ایک تراشے پتھر سے بت خانہ بدنام ہوتا ہے
اس نے اک خوشی کے بدلے زندگی مانگی تھی
جان اس لیے دی کہ جرمانہ بدنام ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






