خیال الجھ کر رہ گئے
Poet: Santosh Kumar Gomani By: Santosh Kumar Gomani, Tharparkar @ Mithiخیال الجھ کر رہ گئے قضاؤں کی ضد میں
جیسے خزاں کے پتے تھے فضاؤں کی ضد میں
وہ آن و انداز مسافر چلتے چلتے رک گیا
شاید ایمان آگیا ہے نگاہوں کی ضد میں
جو لکیروں میں نہیں وہ تقدیروں میں کہاں
پھر بھی ہاتھ رہے یوں دعاؤں کی ضد میں
ان اندھیروں کو روشنائی کا بھی کیا پتہ
وہ ستارہ سمٹ گیا آج رداؤں کی ضد میں
آؤ کہ کبھی اس دیئے کا مقدر دیکھیں
کسی نے جلا کے رکھدیا ہواؤں کی ضد میں
ہماری خطا بھی یہ کہ خطا ہوگئی سنتوش
انجانے میں دل آگیا خطاؤں کی ضد میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






