روز و شب کی آفتوں سے تنگ ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائشیاروز و شب کی آفتوں سے تنگ ہوں
زندگی کے ہاتھ میں بے رنگ ہوں
کیسے تیرے درد کا مرہم بنوں
میں تو اپنی سوچ کی بھی جنگ ہوں
مٹ چکے ہیں سب مرے نقش و نگار
میں فقیری کا مگر ارژنگ ہوں
پھول نے خوشبو سے دیکھو کیا کہا
ہر گھڑی گلشن میں تیرے سنگ ہوں
میں نے جیتا زندگی کا راستہ
میں محبت کی ہی پہلی جنگ ہوں
مجھ کو اوجھل کر نہ تو وشمہ ابھی
میں تمہاری زندگی کا رنگ ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






