لمحہ لمحہ پھر حزیں ہونے لگا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائشیالمحہ لمحہ پھر حزیں ہونے لگا
تیرے جانے کا یقیں ہونے لگا
آپ کے ہونٹوں کو چھو کر دیکھ لوں
عشق تو مجھ کو نہیں ہونے لگا
درد بن کر یاد کا دیکھو ذرا
میرے اندر وہ مکیں ہونے لگا
پاؤں سے نکلی زمیں تو ایک دم
آسماں میرے قریں ہونے لگا
وہ فرشتہ جب نظر آیا نہیں
آدمی کا پھر یقیں ہونے لگا
عشق مہکا مشک بن کر چار سو
عشق کا جلوہ کہیں ہونے لگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






