روٹھنے والے تجھے پھر سے منائیں کیسے
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK روٹھنے والے تجھے پھر سے منائیں کیسے
دل جو ٹوٹا ھے تیرا جوڑ کر لائیں کیسے
حق بجا رکھتے ہو ہم سے خفا ہونے کا۔
سارا قصور اپنا ھےیار اب جھٹلائیں کیسے؟
شب و روز کا گریہ تیرا ہم کو مار رکھے گا۔
دل افسردہ کو تیرے آہ ! ہم ریجھائیں کیسے؟
وہ جو خطا سر زد ہوئے اس پر شرمندہ ہیں۔
معافی مانگیں اب کسطرح تجھکو منائیں کیسے؟
دیکھوتلخی اچھی نہیں دلوں کے درمیاں اپنے۔
باہمی جو رنجش ھے سوچ اس کو مٹائیں کیسے؟
دل کھو گیا ھے کہیں پیار میں تیرے اپنا ۔۔
نہیں معلوم کہاں گم ھے ڈھونڈھکر لائیں کیسے؟
کیوں گریزاں ہوہم سے اسد کس بات پر ؟
فاصلے کم کریں کیسے دوریاں مٹائیں کیسے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






