کچھ تو ترس کھایئے ہماری ذات پر

Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK

 کچھ تو ترس کھایئے ہماری ذات پر
یوں نہ بھکڑکا کیجیئے بات بات پر

دے دیا جب سب تمہارے اختیار میں۔
پھر کیوں انگلی اٹھایئے ہماری ذات پر؟

آپکے واسطے ہم جہان سے الجھ پڑے۔۔۔
وہ بھی آپکے کارں اک ذرا سی بات پر۔۔۔

اور کوئی وجہہ بھی ھے خفا ہو نے کی؟
آہ ! اب ناراضگی ھے بھلا کس بات پر؟

دیکھو دل ساا خزانہ اپنے سونپ دیا تم کو۔۔
ایک نظر ڈالیئے تو سہی پیار کی سوغات پر۔۔

بعد مدت ملے ہو پھر بھی نالان ہو۔۔۔
کوں جانے اتنا غصہ ھے کس بات پر؟

دیکھو پیار کے دشمن گھات میں ہیں اپنی۔
بس تھوڑی نظر ڈالو تم بدلتے حالات پر۔۔

وہ دن بھی دور نہیں جب ایک ساتھ ہونگے۔
فل وقت تھوڑا قابو رکھو دل کے جذبات پر۔۔

پیار کی وہ پہلی بارش اسد بھول مت جانا۔
یاد ھے نہ وہ بھیگنا ساتھ میں برسات پر؟۔
 

Rate it:
Views: 598
15 Jul, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL