رہ گئے ہم بھی مقدر کی شکن میں آخر
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiرہ گئے ہم بھی مقدر کی شکن میں آخر،
ورنہ رشتے تو نبھتے تھے ہنر میں آخر۔
تم گئے، تم سے شکایت بھی نہ کی ہم نے کبھی،
عزتیں رکھ لیں تمہاری، یہ اثر میں آخر۔
کون ہوتا ہے جو نفرت میں بھی عزت دے جائے؟
یہ تو پہچان ہے، کچھ لوگ شجر میں آخر۔
خامشی بول اُٹھی ہے مرے لہجے جیسی،
کیا خبر تم کو، کیا جلتا ہے گھر میں آخر؟
روابط ٹوٹ گئے، پر یہ تعلق باقی،
تم اگر سوچ سکو، بولے گا زر میں آخر۔
تھی یہ تربیت کہ ہر زخم بھی چپ چاپ سہا،
ورنہ الفاظ تو رکھے تھے نظر میں آخر۔
ہم نے ہر موڑ پہ تمہاری بھلائی مانگی،
چاہتے کچھ نہ تھے، رکھتے تھے اثر میں آخر۔
دل میں کتنا بھی اندھیرا ہو، دیا جلتا ہے،
ہم نے سیکھا ہے چراغوں کا ہنر میں آخر۔
تعلق ختم کیا، پھر بھی تمہاری حرمت،
آج بھی قید ہے خاندانی نظر میں آخر۔
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






