رہ گئے ہم بھی مقدر کی شکن میں آخر

Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

رہ گئے ہم بھی مقدر کی شکن میں آخر،
ورنہ رشتے تو نبھتے تھے ہنر میں آخر۔

تم گئے، تم سے شکایت بھی نہ کی ہم نے کبھی،
عزتیں رکھ لیں تمہاری، یہ اثر میں آخر۔

کون ہوتا ہے جو نفرت میں بھی عزت دے جائے؟
یہ تو پہچان ہے، کچھ لوگ شجر میں آخر۔

خامشی بول اُٹھی ہے مرے لہجے جیسی،
کیا خبر تم کو، کیا جلتا ہے گھر میں آخر؟

روابط ٹوٹ گئے، پر یہ تعلق باقی،
تم اگر سوچ سکو، بولے گا زر میں آخر۔

تھی یہ تربیت کہ ہر زخم بھی چپ چاپ سہا،
ورنہ الفاظ تو رکھے تھے نظر میں آخر۔

ہم نے ہر موڑ پہ تمہاری بھلائی مانگی،
چاہتے کچھ نہ تھے، رکھتے تھے اثر میں آخر۔

دل میں کتنا بھی اندھیرا ہو، دیا جلتا ہے،
ہم نے سیکھا ہے چراغوں کا ہنر میں آخر۔

تعلق ختم کیا، پھر بھی تمہاری حرمت،
آج بھی قید ہے خاندانی نظر میں آخر۔

Rate it:
Views: 164
01 Feb, 2026
More Sad Poetry