زباں کا مُنہ میں اِک ٹکڑا سا جو بیکار رکھا ہے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaزباں کا مُنہ میں اِک ٹکڑا سا جو بیکار رکھا ہے
یہ میرا ظرف ہے لب پر نہ کُچھ اِظہار رکھا ہے
مِرے اپنوں نے ہی مُجھ کو حقارت سے ہے ٹُھکرایا
کہوں کیا دِل میں شِکووں کا بس اِک انبار رکھا ہے
یہ سوچا تھا محل سپنوں کا ہی تعمِیر کر لیں گے
مگر تُم نے ہمیشہ کو روا انکار رکھا ہے
چلو تسلیم کر لیتے ہیں، تُم نے جو کِیا اچّھا
کہاں اُجڑی ہوئی یادوں کا وہ سنسار رکھا ہے۔
مُبارک ھو تُمہیں اِک ھمسفر کا ہم سفر ہونا
نئے ساتھی کا اب کے نام کیا 'سرکار" رکھا ہے۔
سدا مسرور رکھا ہے جسے شِیریں سُخنی سے
اُسی کے تلخ لہجوں نے مُجھے آزار رکھا ہے
اگرچہ فاصلے ہیں بِیچ میں حائل مگر حسرتؔ
تُمہاری یاد سے دِل کو گُل و گُلزار رکھا ہے۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






