زخمی دل
Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Gujranwalaکبھی ہمیں جو بلاتے تو تڑپ کے پہنچ آتے ہم
ہمیں جو اپنا کہتے، تمہیں بھی گلے لگاتے ہم
بس ایک یہی خلش ستاتی رہی دن رات ہمیں
ساتھ تیرا جو مل جاتا دشمنوں کو جلاتے ہم
ہوتی جو دوستی ہماری بھی ان بادلوں سے
تیرے آنگن میں بارش ہر وقت برساتے ہم
جب تمہی کو مان بیٹھے ہیں سب کچھ اپنا
تو کیوں تیرے ہوتے کسی اور کو ستاتے ہم
یہ کہہ کر کے جاں چھڑاتے ہو اب ہم سے کہ
لڑ جاتے اگر دنیا سے، تو نہ تم کو گنواتے ہم
تم نے کی ہوتی گر چھوٹی سی ہاں بر وقت
خدا گواہ ہے، بس تمہی کو دلبر اپنا بناتے ہم
رکھ کے یقیں محکم ہم پہ، جو ساتھ چلتے
سارے جہاں کو تیرے قدموں میں گراتے ہم
تجھے پانے کی حسرت میں شور اک بپا ہے
سوا تیرے بتا کس کو کھول کر دل دکھاتے ہم
زخمی دل بھی گر بکتا محبت کے بازار میں
بخدا بیچ دیتے اسے، تمہیں بھول جاتے ہم
ہے نوحہ گری حرام مذہب میں ہمارے ورنہ
کرتے ایسا ستم، خود کو ہی نوچ کھاتے ہم
اعضاء جسم بھی دے رہے ہیں بددعا ہم کو
نہ تم سے پیار ہوتا ہمیں نہ ظالم کہلاتے ہم
لکھتے رہے میری آنکھوں پہ غزلیں، عمراؔن
پوچھتے سبب رونے کا تو غم اپنا سناتے ہم
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






