زلف محبوب کا کیا خوب نظارہ ہو گا
Poet: shahzad hussain sa'yal By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotزلف محبوب کا کیا خوب نظارہ ہو گا
ڈوبتے وقت ہمیں کچھ تو سہارا ہو گا
وہ تجھے بھول گیا بھولنے دے غم نہ کر
تیری قسمت میں کوئی اور ستارہ ہو گا
رات کی نیند گئی دن کا سکوں کھو بیٹھے
بیٹھے ہیں تاک میں کب ہم کو اشارہ ہو گا
دِل کا سودا ہے منافع نہیں تکتے اِس میں
گھاٹے میں ہم رہیں کب ان کو گوارا ہو گا
سائل اب لوٹ چلو بیٹھنے سے کیا حاصل
شام ڈھلنے سے ذرا پہلے پکارا ھو گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






