کچھ سنو تو بولوں میں
Poet: shahzad hussain sa'yal By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotکچھ سنو تو بولوں میں
بات یہ پرانی ہے
گرمیوں کے دن تھے وہ
صبح کی گڑی ہو گی
میں اداس بیٹھا تھا
سوچ میں کہیں گم تھا
اپنے ہی خیالوں میں
پھر مجھے اچانک یہ
سانحہ کی خبر ملی
سانحہ بھی ایسا تھا
روح کو مری جس نے
زخم کچھ لگا یا تھا
ماں نہیں مری میری
مر گیا میں تھا شا ید
کچھ سنو تو بولوں میں
بات یہ پرانی ہے
آج میں جو روتا ہوں
دل سوال کرتا ہے
وجہ کیا ہے رونے کی
ماں تو اک امانت تھی
میں جواب دیتا ہوں
کچھ نظر نہیں آتا
دوستوں کی محفل میں
سب پرائے لگتے ہیں
عید بھی تو ویسی ہے
جیسی ماں کے ہوتے تھی
پر نہیں خوشی کوئی
دل یہ چاہے میرا کے
کاش وقت لوٹ آئے
کاش وقت لوٹ آئے
کاش وقت لوٹ آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






