زمانہ جب بھی بدلے گا
Poet: shahzad hussain sa'yal By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotزمانہ جب بھی بدلے گا
تمہارا دل بھی سوچے گا
کہ تم نے بھی کبھی ہمدم
کسی کا دل دکھایا تھا
بہت ہی اوج پر تھی تم
بہت مغرور تب تھی تم
تمہیں کچھ یاد ہو شائد
دسمبر کی تھیں وہ راتیں
وہ موسم کی سبھی باتیں
وہ بادل کا گرجنا بھی
وہ بارش کا برسنا بھی
چلو چھوڑو یہ سب باتیں
یہ سب باتیں پرانی ہیں
زمانہ جب بھی بدلے گا
تو واپس لوٹ آنا ناں
مجھے پھر سے ستانا ناں
مجھے پھر سے رلانا ناں
بہت ہی دن ہوے جاناں
تری صورت نہیں دیکھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






