زندگی مجھ کو تمنا ؤں کا گھر لگتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیازندگی مجھ کو تمنا ؤں کا گھر لگتی ہے
کبھی ویران سے مندر کا شجر لگتی ہے
گھٹ گئی عمر کی دستار یوں بڑھتے بڑھتے
ساری دنیا کو مری ذات دہر لگتی ہے
دل کی چوکھٹ پہ تو تقسیم جفاؤں کی ہے
تیری چاہت تو وفاؤں کا اثر لگتی ہے
شبِ وحشت کو چراغوں کی ضرورت ہو گی
پھر کسی بام پہ جلتی جو سحر لگتی ہے
جب سناتی ہے سرِ بزم کوئی وشمہ غزل
در حقیقت اسے اس شام نظر لگتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






