جی رہا ہے یہاں بے حساب آدمی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکتنے چہرے پہ ڈالے نقاب آدمی
جی رہا ہے یہاں بے حساب آدمی
زندگی میں کبھی دوسروں کے لئے
کاش دیکھے کوئی اک تو خواب آدمی
حق کسی کا کسی کی خوشی چھین کر
کیوں سمجھتا ہے کارِ ثواب آدمی
جس کے دم سے ہی ذلت کا دھبہ لگا
آدمی کا ہے یہ انتخاب آدمی
جان دیتا ہے ارضِ وطن کے لئے
اس وطن کا تو ہے لاجواب آدمی
روزِ محشر کھڑا ہے لئے ہاتھ میں
اپنے اعمال کی اک کتاب آدمی
تھا محبت کا پیکر مگر دیکھ لو
بن گیا ہے یہ وشمہ عذاب آدمی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






