زندگی کو یوں بِتانا چاہیۓ
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیزندگی کو یوں بِتانا چاہیۓ
ہر قدم پر مُسکرانہ چاہیۓ
ہر کسی کے لب پہ ہی تعریف ہو
کام ایسا کر دکھانا چاہیۓ
ہاں پرندے بھی تو ہیں خلقِ خدا
اُن کو بھی تو آشیانہ چاہیۓ
چاہے دِلشِکنی کِسی کی بھی ہو پر
بات کرنی منصفانہ چاہیۓ
وہ مری عادات سے واقف نہیں
کُچھ نہ کُچھ اُس کو بتانا چاہیۓ
قدر نا ہو دِل کے جذبوں کی جہاں
شہر ایسا چھوڑ جانا چاہیۓ
گر فقیری ہے تجھے مطلوب تو
میکدے میں آنا جانا چاہیۓ
میں ہوں شاعر اور لکھنی ہے غزل
مُجھ کو موسم عاشقانہ چاہیۓ
روٹھ جو محبوب باقرؔ جاۓ تو
اُس کو جلدی سے منانا چاہیۓ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






