سادگی کے لہجے میں ایک بات کہوں گا
Poet: By: Asif Ali Khan, Manchester ukمیں سادگی کے لہجے میں ایک بات کہوں گا
رکتی نہیں اشکوں کی برسات کہوں گا
کہوں گا کہ شامیں میری اداس رہتی ہیں
بن تیرے نہیں کٹتی میری رات کہوں گا
جو کہو گے تم وہی مان لوں گا میں
جو تم کو لگے اچھی وہی بات کہوں گا
تیرے حسن کو ڈھونڈوں گا گلشن کی کلی میں
میں کھلتے ہوئے پھولوں کو تیری ذات کہوں گا
پہلو میں اس کو ساغر بیٹھا کے کسی دن
ہاتھوں پہ میرے رکھ دو یہ ہاتھ کہوں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






