سانسیں ہیں کم
Poet: Khan Muhammad Imran - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarساقی پلائے گا جب تک، نہ باز آئینگے
ہم اُس کی مست نگاہوں سے پیتے جائینگے
جو جینا یار کی گلی میں ٹھرا ۔۔۔ یوں ہی سہی
نام کافر ادا کا لے کے جیتے جائینگے
سنگ پڑیں یا ہو سینہ تیغ کی زد میں
یار کی گلیوں سے یوں تو ہم نہ جائینگے
سانسیں ہیں کم ۔۔۔ نہیں اس بات کا ہم کو غم
چند یادوں میں تیری۔۔ چند یونہیں گُزر جائینگے
آئیگا وقت وہ جب سب پڑھیں گے انا للہ
غمِ ہجراں سے مانو۔۔ ہم مر جائینگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






