سب نے اِنسان کو معبُود بنا رکھا ہے
Poet: Ahmed Nadeem Qasmi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIسب نے اِنسان کو معبُود بنا رکھا ہے
اور سب کہتے ہیں اِنسان میں کیا رکھا ہے
یُوں بظاہر تو دِیا میں نے بُجھا رکھا ہے
درد نے دل میں الاؤ سا لگا رکھا ہے
منصفو! کُچھ تو کہو، کیوں سرِ بازارِ حیات
مُجھ کو اِحساس نے سُولی پہ چڑھا رکھا ہے
جس کے ہر لفظ سے ہو حشرِ صداقت پیدا
میں نے وہ گِیت قیامت پہ اُٹھا رکھا ہے
کِتنا مجبُور ہُوں میں، حُسنِ نظر کے ہاتھوں
مُجھ کو ہر شخص نے دِیوانہ بنا رکھا ہے
ہاں، میں خاموش محبت کا بھرم رکھ نہ سکا
ہاں، خُدا کو تو تیرا نام بتا رکھا ہے
اور تو کوئی چمکتی ہُوئی شے، پاس نہ تھی
تیرے وعدے کا دِیا راہ میں لا رکھا ہے
لاکھ فرزانگیاں میرے جنُوں کے قُرباں
میں نے لُٹ کر بھی غمِ عشق بچا رکھا ہے
میری اُمید کی پتھرا گئیں آنکھیں، لیکن
مَیں نے اِس لاش کو سینے سے لگا رکھا ہے
گُھومتی پِھرتی ہیں لیلائیں بگولوں کی طرح
قیس نے دَشت میں اِک شہر بسا رکھا ہے
حُسنِ تخلیق کی دھرتی میں جڑیں کیا پھیلیں
تم نے اِنساں کو گملے میں سجا رکھا ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






