سجدہ شکرتو بجا لائو کوئی
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, MPK سجدہ شکرتو بجا لائو کوئی
انکے آنے کا جشن منائو کوئی
مدتون بعد آیا ھے کوئی۔
گھر کو اپنے سجائو کوئی۔
لو وہ آ گیا رونقے محفل۔
پیار کے پھول برسائو کوئی۔
چلو مل کر اٹھائو جام الفت۔
پیار کا رنگ جمائو کوئی۔
خوب کرو یار تم ہلا گلا۔
شور در شور مچائو کوئی۔
ورد لب جاری رکھو چرچہ انکا۔
بلبلون کی طرح چہچھائو کوئی۔
ہر طرف خوشیوں کی بارش کردو۔
ابر الفت آج برسائو کوئی۔
بس یار کی خوشی کی خاطر۔
اپنی سارے غم بھلائو کوئی۔
خود کو تنہا نہ محسوس کرے۔
بھیڑ سا احساس دلا ئو کوئی۔
ایک پل کو افسردہ نہ رھے۔
خوب چھیڑ کر ہنسا ئو کوئی۔
یار آیا ھے زحے نصیب اپنے۔
پیار کا نغمہ تو گنگنائو کوئی۔
سب بلا لو دوست احباب سارے۔
پیار کا جشن ھے ملکر منائو کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






