سزا دو
Poet: shehzad butt shaz By: shehzad butt shaz, karachiتیرے دل میں جو ہے مجھے تم بتا دو
پیار کی تم اتنی بڑی تو نہ سزا دو
چوبیس گھنٹے بعد جو آتا ہے وقت
اس وقت سے تم اپنا پہرہ ہٹا دو
جو چاہتے ہو تم مجھ کو وہ ہی سمجھ لو
اپنے رنگ میں لے کر تم مجھ کو رنگ دو
دیکھا ہے اک لمبا سفر میں نے تنہا
مجھ سے مل کر تم میری تنہائی مٹا دو
پیاسی ہے گزاری یہ زندگی میں نے
اپنے پیار کی بوند سے میری پیاس بجھا دو
سمندر سے بھی گہرا ہے پیار میرا
پیار کی کشتی تم کنارے لگا دو
ڈرتا ہوں تیرے میں قابل نہیں ہوں
مجھ کو تم میری سانسیں لوٹا دو
تیرے اختیار میں ہے میرے دل کی دھڑکن
جو چاہو مجھے تم اب اس کی سزا دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








