سلا کر تیز دھاروں کو کنارو تم نہ سو جانا
Poet: ساحل By: ساحل, Karachiسلا کر تیز دھاروں کو کنارو تم نہ سو جانا
روانی زندگانی ہے تو دھارو تم نہ سو جانا
مجھے تم کو سنانی ہے مکمل داستاں اپنی
ادھوری داستاں سن کر ستارو تم نہ سو جانا
تمہارے دائرے میں زندگی محفوظ رہتی ہے
نظام بزم ہستی کے حصارو تم نہ سو جانا
تمہیں سے جاگتا ہے دل میں احساس روا داری
قیام ربط باہم کے سہارو تم نہ سو جانا
اگر نیند آ گئی تم کو تو چشمے سوکھ جائیں گے
کبھی غفلت میں پڑ کر کوہسارو تم نہ سو جانا
تمہیں سے بحر ہستی میں رواں ہے کشتیٔ ہستی
اگر ساحل بھی سو جائیں تو دھارو تم نہ سو جانا
صدائے درد کی خاطر تمہیں کوثرؔ نے چھیڑا ہے
شکستہ ساز کے بیدار تارو تم نہ سو جانا
More Love / Romantic Poetry






