سودا

Poet: Shabbir Nazish By: Shabbir Nazish, Karachi

میرے دیس کے صاحب لوگوں
یہ سچ ہے
مزدور ہوں اِک مجبور ہوں لیکن
بھیک نہیں میں مانگنے آیا
سودا کرنے آیا ہوں
پر۔۔۔۔۔۔
میرے پاس جو پیسے تھے
ایک ضرورت مند نے مجھ سے چھین لئے ہیں
میرے گھر کی دیواروں پر قحط کا ’’کلّر‘‘ اُگ آیا ہے
بھوک بلکتی پھرتی ہے
خالی ہاتھ میں گھر لوٹا تو
بھوکے پیٹ کے بچے مجھ پر جھپٹیں گے
اور رندھی آواز میں مجھ سے پوچھیں گے
بابا۔۔۔۔۔راشن لائے ہو؟
تو پھر
میرے جیون کے اِس پیڑ کی شاخیں
ضبط کا بُور گِرا دیں گی
اُس منظر کو دیکھنے کی
اب اِن آنکھوں میں تاب نہیں
میرے دیس کے صاحب لوگوں
یہ سچ ہے
مزدور ہوں اِک مجبور ہوں لیکن
بھیک نہیں میں مانگنے آیا
سودا کرنے آیا ہوں
مجھ سے میری آنکھیں لے لو
لیکن مجھ کو آٹا دے دو

Rate it:
Views: 566
06 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL