سودا
Poet: Shabbir Nazish By: Shabbir Nazish, Karachiمیرے دیس کے صاحب لوگوں
یہ سچ ہے
مزدور ہوں اِک مجبور ہوں لیکن
بھیک نہیں میں مانگنے آیا
سودا کرنے آیا ہوں
پر۔۔۔۔۔۔
میرے پاس جو پیسے تھے
ایک ضرورت مند نے مجھ سے چھین لئے ہیں
میرے گھر کی دیواروں پر قحط کا ’’کلّر‘‘ اُگ آیا ہے
بھوک بلکتی پھرتی ہے
خالی ہاتھ میں گھر لوٹا تو
بھوکے پیٹ کے بچے مجھ پر جھپٹیں گے
اور رندھی آواز میں مجھ سے پوچھیں گے
بابا۔۔۔۔۔راشن لائے ہو؟
تو پھر
میرے جیون کے اِس پیڑ کی شاخیں
ضبط کا بُور گِرا دیں گی
اُس منظر کو دیکھنے کی
اب اِن آنکھوں میں تاب نہیں
میرے دیس کے صاحب لوگوں
یہ سچ ہے
مزدور ہوں اِک مجبور ہوں لیکن
بھیک نہیں میں مانگنے آیا
سودا کرنے آیا ہوں
مجھ سے میری آنکھیں لے لو
لیکن مجھ کو آٹا دے دو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







